Sunday, 1 November 2015

ترکی کے انتخابات میں حکمراں جماعت آگے

0 comments
ترکی میں انتخابات کے دوران سکیورٹی کافی سخت رہی
ترکی میں ہونے والے انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق 40 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد حکمران جماعت اے کے پارٹی کو 53 فیصد ووٹ ملے ہیں۔
ترکی کے باشندوں نے گذشتہ پانچ مہینے میں دوسری بار پارلیماني انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے تھے۔
جون میں ہونے والے انتخابات میں صدر رجب طیب اردوگان کی اے کے پارٹی مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔
اس کے بعد سے اتحاد کی حکومت قائم کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔
ان انتخابات میں کرد جنگجوؤں کے ساتھ تصادم اور تشدد کی لہر کے علاوہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے مبینہ بم حملوں کے پیش نظر سکیورٹی اہم مسئلہ ہے۔
جون میں ہونے والے انتخابات میں صدر رجب طیب اردگان کی اے کے پارٹی مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی
رجب طیب اردوگان نے اپنی پارٹی کے حکومت آنے کے بدلے ملک کو استحکام کا وعدہ کیا ہے۔
سنیچر کو استنبول کی ایک مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد انھوں نے کہا ’یہ انتخاب ملک میں استحکام اور اعتماد کے لیے ہو رہا ہے۔‘
رجب طیب اردوگان نے انتخابات کے نتائج کا احترام کرنے کا عہد کیا ہے تاہم ان کے ناقدین نے واضح اکثریت حاصل ہونے کی صورت میں ان کے ’مطلق العنان ہونے کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔‘
اگر اے کے پارٹی ان انتخابات میں بھی تنہا اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اسے ملک کی اہم سیکولرسٹ پارٹی سی ایچ پی یا نیشنلسٹ پارٹی ایم ایچ پی کے ساتھ بات چیت کی میز پر آنا پڑے گا۔

Sunday, 5 July 2015

کوئٹہ دھماکہ ، دہشتگرد بم نصب کرنے جارہاتھاکہ راستے ہی میں بلاسٹ ہو گیا :ابتدائی رپورٹ

0 comments
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)کوئٹہ کے باچاخان چوک میں ہونے والے دھماکہ کی ابتدائی رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس کے مطابق دہشت گر د بم نصب کرنے کیلئے جار ہا تھا کہ راستے ہی میں بم پھٹ گیا اور ہلاک ہونے والا شخص ممکنہ طورپر دہشتگرد ہے ۔
تفصیلات کے مطابق تحقیقاتی اداروں نے کہاہے کہ بم پانچ سے چھ کلو وزنی تھی اگر یہ رش والی جگہ پر پھٹ جاتا تو زیادہ نقصانات ہونے کا خدشہ تھا تاہم دہشتگرد بم نصب کرنے کیلئے جار ہا تھا لیکن راستے ہیں میں بلاسٹ ہو گیا جس کے باعث دہشتگرد کا ایک بازو اور دونوں ٹانگیں ذائع ہو گئی تاہم ہلاک ہونے والا شخص ممکنہ طورپر دہشتگرد ہو سکتاہے ۔
واضح رہے کہ کوئٹہ کے باچا خان چوک کے قریب بم دھماکہ کے باعث ایک شخص کے ہلاک ہونے اور 19کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ہسپتال ذرائع کا کہناتھاکہ زخمی ہونے والوں میں سے چار کی حالت انتہائی تشویشناک ہے ۔

Tuesday, 30 June 2015

بلاول اب بھٹو بنیں گے یا زرداری وکیل انجم

0 comments

بلاول اب بھٹو بنیں گے یا زرداری وکیل انجم

سیاست میں رضاکارانہ جلاوطنی کی تاریخ پرانی ہی نہیں کافی پرانی ہے۔ بے نظیر بھٹو نے بھی دو مرتبہ جلاوطنی کا راستہ اختیار کیا ۔ سیاسی منظرنامے پر یہ سوال پھر اٹھا ہے۔ منظرنامہ ہی کچھ ایسا تھا جس انداز سے زرداری مافیا کے نیٹ ورک کو سندھ سے اکھاڑنے کا عمل شروع ہوا،ردعمل بھی خوب تھا مگر یہ ردعمل بلاول کی سیاست کیلئے خطرے میں گھنٹیاں بجانے لگا ہے۔ زرداری خاندان دبئی اور برطانیہ روانہ ہوا ہی تھا میڈیا پر بھاگ جانے کا سوال اٹھا۔ اگلے روز ہی بہادری دکھاتے ہوئے بلاول وطن واپس لوٹ آئے۔ بلاول بھٹو کیلئے اپنی شناخت کا سوال ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنا راستہ خود بناتے ہیں یا والد کی سیاست کو آگے بڑھاتے ہیں۔
سندھ میں کرپٹ لوگوں کی جس طریقے سے صفائی کا عمل شروع ہوا ہے اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اب سیاست اور جرم الگ ہو کر رہیں گے۔ خاص طور پر آصف علی زرداری کے خاص لوگوں کی کرپشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ نواب شاہ میں زرداری کے قریبی عزیز کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر سیلاب زدگان کیلئے آنے والی 7ایمبولینسیں اور ویگنیں برآمد کیں۔ مسئلہ تو بلاول کا ہے جس کا کوئی قصور نہیں مگر پیپلزپارٹی کے 5سالہ دور حکومت اور اس کے بعد بھی سندھ حکومت میں لوٹ مار کا جو میدان سجا ہے، بلاول کیلئے پارٹی کو پھر سے زندہ کرنابڑا چیلنج ہے۔ اس بیچارے کی مشکلات تو بڑی ہیں۔ چھوٹی عمر میں ہی ماں کا بچھڑ جانا اس کیلئے نہ بھولنے والا صدمہ ہے۔بلاول بھٹو زرداری کو بے نظیر بھٹو کی موت کے وقت ان کے والد آصف علی زرداری نے وصیت منظر عام پر آنے کے بعد لانچ کیا تھا۔
بلاول اُس وقت طالب علم تھے اس لئے ان کو چیئرمین بنانے کے بعد آصف خود کو چیئرمین بن گئے۔ تعلیم مکمل ہوئی ، بے نظیر بھٹو کی 5 ویں برسی پر انہیں باقاعدہ سیاست میں داخل کیا گیا۔ بلاول نے اس موقع پر سیاست میں آنے کا اعلان کیا۔ تربیت کے مراحل تو پہلے ہی طے ہو چکے تھے، اس کے بعد پارٹی نے 5 سال پورے کئے۔ 2013ء کے انتخابات میں بہترین موقع تھا۔ بلاول بھٹو پارٹی کیلئے باہر نکلے اس کے لیڈر باہر آئے یہاں تو صورت حال ہی یہ تھی ایوان صدر میں بیٹھ کر جوڑ توڑ کیلئے مسلم لیگ (ن) پر حملہ کرنے کا کوئی موقع نہیں تھا۔ دشمن کی کردار کشی تو الگ بات اپنا پروگرام بھی ایوان صدر میں بیٹھ کر دیا جانے لگا۔ آصف علی زرداری چیئرمین تھے۔ وہ سمجھ بیٹھے تھے صوبہ بنانے کی جو تحریک انہوں نے شروع کی تھی اگرچہ وہ کامیاب نہیں ہو سکی لیکن
جنوبی پنجاب کے لوگ ان کے پیچھے چل پڑیں گے۔ عوام کا معاملہ یہ تھا وہ سمجھتے تھے زرداری صاحب سیاست کر رہے تھے نہ میدان میں زرداری آئے نہ گیلانی نہ کوئی اور پھنے خان، بلاول کو بھی چھپا لیا گیا۔
انتخابی مہم ٹیلی ویژن سکرین پر ہی نظر آئی۔ ایسی بیکار سیاسی مہم میں پارٹی کیسے کامیاب ہو سکتی۔ بلاول نے اپنی آنکھوں کے سامنے تین صوبوں میں پارٹی کا ایسا زوال دیکھا، بہت سے سوالات اُن کے ذہن میں ابلنے شروع ہوئے۔ اُن کو احساس ہو گیا تھا پارٹی کے لیڈروں نے جس انداز سے لوٹ مار کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا، انجام تو ایسا ہی ہونا تھا۔ باپ بیٹے کی سیاسی جنگ شروع ہوئی تو سب کچھ چھوڑ کر لندن جا بیٹھے، کسی صورت نہ مانے ، شرائط پر چھ سات ماہ کی ناراضگی اب ختم ہوئی۔ بلاول بھٹو زرداری کو بچہ سمجھنے والوں کو احساس ہونا چاہیے اب وہ بالغ ہے۔ قومی اسمبلی جانا چاہتا ہے۔ بلاول کو خونی رشتوں کو نبھانا ہے یا نانا کی پارٹی کو، اُن کی ترجیح یقیناًپارٹی ہے۔ اب اُس نے سندھ میں کرپٹ ٹولہ پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھٹو کی مشکلات یہ ہے پارٹی میں کافی عرصے سے نئے لوگ نہیں آئے۔ پرانے لیڈروں میں کشش نہیں رہی۔ بلاول نے ماں کی سیاست دیکھی ہے۔
اُن کی تربیت پائی ہے مگر اس نوجوان کو علم نہیں تھا کہ 27 دسمبر 2007ء جس نے بھٹو خاندان ہی نہیں، ہماری قومی زندگی میں ایک کھلبلی مچا دی تھی، اس نے بلاول بھٹو کی زندگی کا شیڈول بھی درہم برہم کر دیا اور جس پارٹی کو اُن کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے قائم کیا اور والدہ نے بھٹو ازم کے فلسفے کو عروج تک پہنچایا، اس پارٹی کی سربراہی صرف بیس سال 3 ماہ اور 8 دن کی عمر میں ان کے کندھوں پر آن پڑی تھی۔ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان پیپلزپارٹی کا چیئرمین بننے کے بعد جو پہلی پریس کانفرنس کی تھی اُس کا ایک ایک لفظ تحریر شدہ تھا۔ اسے سوچ سمجھ کر لکھا گیا تھا۔ اس میں انہوں نے اپنی والدہ بے نظیر بھٹو کے افکار کو ہی اجاگر کیا تھا اور یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ وہ اپنی شہید والدہ کی طرح پاکستان فیڈریشن کی علامت بن کر جئیں گے اور ملک بچانے اور فیڈریشن کو قائم رکھنے اور جمہوریت بچانے کیلئے جدوجہد کریں گے۔
وہ سمجھتے تھے کہ اپنی والدہ کی شہادت کا انتقام اور بدلہ صرف اور صرف جمہوریت قائم رکھ کر ہی لیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف بلاول کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست بھی کیا خوب تھی ۔ مختلف وزارتوں سے ترقی پاتے پاتے وزیر خارجہ کے منصب تک جا پہنچے۔ ایوب خان کے دور میں انہیں فن خطابت کا موقع تو نہ ملا لیکن 1965ء میں انہوں نے سلامتی کونسل میں بے مثال تقریر کی۔ اس دور میں بھٹو کیلئے ایسا لمحہ بھی آیا جب ایوب خان کے بہت سے ساتھی جن میں بیورو کریٹ، سیاستدان اور فوجی شامل تھے جو بھٹو کو راستے سے ہٹانے کی سوچنے لگے۔ ایوب کابینہ سے نکلنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے براہ راست ایوب آمریت کو للکارا اور معاہدہ تاشقند کے راز سے پردہ اٹھانے کا جگہ جگہ ذکر کیا۔ پہلی مرتبہ لاہور آئے تو اہل لاہور نے دل کھو کر پذیرائی بخشی۔ 30 نومبر 1967ء کو انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی اور ایوب خان کی کابینہ سے الگ ہونے کے بعد 1970ء کے انتخابات تک کا دور پارٹی کو منظم کرنے میں لگا دیا۔ 23 جون 1967ء کو لاہور کے گول باغ میں بہت بڑے عوامی جلسے سے تین گھنٹے تک تاریخ ساز خطاب کرکے ہلچل مچا دی۔
وہ جوش خطابت سے کسانوں کو جاگیرداروں، مزدوروں، صنعتکاروں اور غریبوں کو امیروں کے خلاف ابھارتے رہے اور روٹی، کپڑا، مکان کا نعرہ لے کر ملک کے کونے کونے میں پہنچے۔ عوامی تاثر یہ تھا کہ وہ پہلے لیڈر ہیں جو عوام کی بات کرتے ہیں۔ بھٹو درحقیقت بڑے انسان تھے اور بڑے انسان کی طرح ان میں بھی چند کمزوریاں تھیں۔ وہ کامیاب ہوئے یا ناکام یہ فیصلہ تو تاریخ پر چھوڑتے ہیں لیکن 1977ء تک وہ ملک کے ایک بڑے طبقے کو متاثر کر چکے تھے۔ ان کے مقابلے میں 9 جماعتوں کا اتحاد پہلی مرتبہ چیلنج بنا جس میں بھٹو کا ایک سے ایک بڑا دشمن شامل تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد نصرت بھٹو کو چیئرپرسن بنایا ۔
بے نظیر بھٹو کی سیاست کا دور بھی یہاں سے شروع ہوا۔ بے نظیر بھٹو نے بھی پارٹی کی مقبولیت کا گراف نیچے نہ گرنے دیا۔ جہاں تک بلاول بھٹو زرداری کا تعلق ہے پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے اُن کے پاس اپوزیشن میں رہ کر کام کرنے کا تجربہ بالکل نہیں ہے۔ اس لئے بلاول بھٹو کو قومی اسمبلی میں لایا جا رہا ہے اور وہ سید خورشید علی شاہ کی جگہ اپوزیشن لیڈر بنیں گے۔ اس عہدے پر دو مرتبہ اُن کی والدہ فائز رہی ہیں۔ بلاول بھٹو کیلئے مشکل یہ ہے کہ پیپلزپارٹی بکھر رہی ہے اور لیڈر تیزی سے دوسری جماعتوں میں شامل ہو رہے ہیں۔والد نے اسٹیبلشمنٹ سے جو جنگ چھیڑی ہے وہ کوئی معمولی نہیں ہے۔ بلاول کو پتہ ہے آصف علی زرداری پورے پانچ سال پارٹی کو مقبول بنانے کی بجائے جوڑ توڑ کے جوہر دکھاتے رہے۔ عوام نے اُن کی سیاست کو مسترد کر دیا۔ بلاول بیچارا اب کیا کرے گا وہ زرداری ہے اُسے بھٹو بننے کیلئے اپنے والد کی فکر سے مکمل آزاد ہونا پڑے گا۔
بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

سو برس سے جاری جنگ (قسط دوم) وسعت اللہ خان

0 comments
اب سے ایک سو ایک برس پہلے اٹھارہ جولائی انیس سو چودہ کو پہلی جنگِ عظیم کا بگل بجا تو اس روز عالمی جغرافیہ کچھ یوں تھاکہ ہندوستان سے آبنائے ملاکا تک کا علاقہ سلطنتِ برطانیہ کا مقبوضہ تھا۔شام تا یمن کا مشرقِ وسطیٰ سلطنتِ عثمانیہ کا مقبوضہ تھا اور شمالی افریقہ برطانیہ ، فرانس ، اٹلی اور اسپین نے عثمانیوں سے چھین کے بانٹ رکھا تھا۔اس نوآبادیاتی جغرافیے کا سب سے محکوم کردار عام مسلمان تھا۔لہذا کسی بھی دو طرفہ جھگڑے میں اس کے ساتھ بندر کی بلا طویلے کے سر والا معاملہ ناگزیر تھا۔
بقول ضمیر جعفری

آقا جو لڑکھڑایا تو نوکر پھسل گیا
نومبر انیس سو چودہ کے دوسرے ہفتے میں سلطنتِ عثمانیہ کے مفتیِ اعظم نے استنبول کی الفتح مسجد کے منبر سے فتویٰ جاری کیا کہ تمام مسلمانوں پر ملعون برطانیہ ، فرانس ، روس اور ان کے دیگر ساجھے داروں کے خلاف جہاد فرض ہوگیا ہے۔ مشکل بس یہ تھی کہ جتنے مسلمان سلطنتِ عثمانیہ میں بستے تھے لگ بھگ اتنے ہی ملعونوں کے مقبوضات میں بھی رہ رہے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں جانب کے مقبوضہ مسلمان سامراجی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان آ گئے۔
برطانیہ نے اپنے زیرِ نگیں مصر سے مختلف جنگی خدمات کے لیے ایک ملین افراد بھرتی کیے۔فرانس نے اپنی نوآبادی الجزائر سے ایک لاکھ ستر ہزار ، تیونس سے اسی ہزار اور مراکش سے پینتالیس ہزار مقامی افراد جبری بھرتی کرکے یورپی محاذ پر روانہ کیے۔جنگ کے خاتمے پر ان میں سے پچیس فیصد سپاہی گھر واپس نہیں لوٹے۔ تیونس کے مورخ خلیل شریف کے مطابق فرانسیسیوں نے نوآبادیاتی سپاہیوں کو اگلے مورچوں پر اور گورے سپاہیوں کو زیادہ تر خندقوں کی جنگ میں استعمال کیا۔اس لیے غلام فوجی زیادہ مرے۔
نوآبادیاتی سپاہی جبراً لڑ رہے تھے، اس لیے فرانسیسی جرنیل ان سپاہیوں کے ڈسپلن کے بارے میں اکثر فکرمند رہتے۔جرمن مسلسل پروپیگنڈہ کر رہے تھے کہ مفتی اعظم کے فتویٰ کے بعد کسی بھی مسلمان کا سلطنت عثمانیہ اور اس کے اتحادیوں (جرمنی وغیرہ) سے لڑنا حرام ہے۔چنانچہ فتوے کے دو ہفتے بعد تیس نومبر انیس سو چودہ کو تیونس کے فوجی قلعے بیضرت میں بغاوت ہوگئی اور مقامی رنگروٹوں نے مارسیلز (فرانسیسی بندرگاہ) جانے والے جہاز میں سوار ہونے سے انکار کردیا۔ اس خبر کو الجزائر اور مراکش کے مقبوضات تک پھیلنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور مورخ فیصل شریف کے مطابق سو سے ڈیڑھ سو کے درمیان تیونسی باغیوں کو فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کردیا گیا۔
محاذِ جنگ پر بھی نوآبادیاتی فوجیوں میں ڈسپلن قائم رکھنے کے لیے فرانسیسی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ہر دس میں سے ایک کو نشانِ عبرت بنانے کی قدیم رومن فوجی روایت کو شمالی افریقی رنگروٹوں پر لاگو کیا۔پندرہ دسمبر انیس سو چودہ کو ’’ رجمنٹ دو مکس الجئیرز ’’کی دسویں بٹالین کے بیس الجزائری و تیونسی سپاہیوں نے جرمن پوزیشنوں کی طرف پیش قدمی سے ہچکچاہٹ دکھائی تو جنرل لا کورے نے انھیں نہتا کرکے دشمن مورچوں کی طرف بڑھنے کا حکم دیا اور اگر اس دوران دشمن سے بچ نکلیں تو ان ھی کے کامریڈ انھیں گولی سے اڑا دیں۔ فرانسیسی محقق گلبرٹ مینئر کے مطابق انیس سو پندرہ تک مختلف محاذوں پر ایسی سرسری سزائیں دینے کے تحریری احکامات جنگی ریکارڈ میں موجود ہیں مگر بعد میں ایسے احکامات زبانی جاری ہونے لگے۔
فرانسیسیوں کی جبری بھرتی مہم کے خلاف انیس سو پندرہ، سولہ میں لیبیا کی سرحد کے قریب تیونسی قصبے کبیر میں دو بغاوتیں ہوئیں جو جنگ کے بعد بھی گوریلا مزاحمت کی شکل میں جاری رہیں۔ انھیں دبانے کی کوشش میں سیکڑوں فرانسیسی فوجی ہلاک ہوئے۔ان بغاوتوں کے سرغنہ خلیفہ بن عسکر اور محمد دغباچی تھے۔ دغباچی کو انیس سو چوبیس میں پکڑ کے پھانسی دیدی گئی مگر اس کا نام لوک گیتوں کا حصہ بن گیا۔ایسی بغاوتیں عثمانی مقبوضات میں بھی ہوئیں مگر یہاں وہاں اکا دکا بغاوتوں سے قطع نظر اکثریت کے لیے فوجی بھرتی سے انکار دونوں جانب ممکن نہ تھا۔
اپریل دو ہزار پندرہ میں پہلی بار جرمنوں نے بلجئیم میں فلانڈرز کے محاذ پر کلورین گیس کے پانچ ہزار کنستر استعمال کیے۔لگ بھگ چھ ہزار فوری ہلاکتیں ہوئیں اور سیکڑوں زخمی بینائی کھو بیٹھے۔ فرانس کا پینتالیسواں اور ستاسی واں ٹیریٹوریل ڈویژن اولین کیمیاوی حملے کی زد میں آیا۔دونوں ڈویژنوں میں شمالی افریقی رنگروٹوں کی اکثریت تھی۔برطانوی مورخ ایڈورڈ سپئیرز کے بقول بعد کے گیس حملوں میں برطانوی ، فرانسیسی اور کینیڈین فوجی زیادہ متاثر ہوئے۔
عسکری تاریخ کے اس پہلے کیمیاوی حملے میں استعمال ہونے والی کلورین گیس جنگ سے دو برس پہلے ( انیس سو بارہ) برلن میں قائم ہونے والے کیسر ولیہلم انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل کیمسٹری میں تیار ہوئی۔ انسٹی ٹیوٹ کے پہلے ڈائریکٹر فرٹز ہیبر کو انیس سو اٹھارہ میں امونیا گیس سے مصنوعی کھاد بنانے کے فارمولے پر کیمسٹری کا نوبیل انعام ملا۔ اب تک اس انسٹی ٹیوٹ کے تینتیس سائنسداں نوبیل انعام حاصل کرچکے ہیں۔
یورپ کے وسطی محاذ پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد جنگی تعطل پیدا ہوگیا اور فریقین نے خندقوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو مصروف رکھنے کی حکمتِ عملی اپنالی۔ اس تعطل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برطانوی ایڈمرل ونسٹن چرچل نے جرمن اتحادی ترکی کی فیصلہ کن پٹائی کا منصوبہ بنایا۔مقصد یہ تھا کہ استنبول پر قبضہ کرکے روس تک کمک پہنچانے کے لیے بحیرہ اسود تک کا راستہ کھولا جائے۔ ویسے بھی انیسویں صدی سے کوئی بھی عثمانیوں کو خاطر میں نہیں لا رہا تھا۔اس دوران عثمانیوں سے بلقان اور یونان چھن گئے۔ پھر الجزائر سے مصر تک کے شمالی افریقی مقبوضات یورپئیوں نے ہتھیا لیے۔ انیس سو گیارہ میں لیبیا بھی اٹلی نے جھپٹ لیا۔ لے دے کے شام ، فلسطین ، ولایت بغداد و موصل ، جزیرہ نما عرب اور یمن ہی عثمانیوں کے ہاتھ میں رہ گئے۔ زار نکولس اول کا یہ کہنا کچھ غلط نہ تھا کہ یورپ کے اس مردِ بیمار سے اب کوئی نہیں ڈرتا ورتا۔
چنانچہ پچیس اپریل انیس سو پندرہ کو برطانیہ ، فرانس ، یونان ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مشترکہ افواج بحیرہ ایجین کے کنارے گیلی پولی کے ساحل پر اترنی شروع ہوئیں تو یہاں بس ایک ترک فوجی یونٹ متعین تھا۔آسٹریلوی مورخ بل سیلرز کے بقول جب تھکا ہارا ترک یونٹ پسپائی کی تیاری کر رہا تھا تو اسے مصطفیٰ کمال نامی ایک اعلی فوجی افسر کا پیغام ملا ’’ میں تمہیں لڑنے کا نہیں مرنے کا حکم دیتا ہوں۔تمہاری موت ہمیں اتنا وقت دے جائے گی کہ ہم تمہاری جگہ لے سکیں‘‘۔
مصطفی کمال کی انیسویں کور کے تین لاکھ فوجیوں میں سے پچھتر فیصد کا تعلق ولائیتِ شام و فلسطین سے تھا۔ تین میں سے دو رجمنٹیں عرب تھیں۔ گیلی پولی کا معرکہ سات ماہ جاری رہا اور ترکوں نے اتحادیوں کو اکھاڑ پھینکا۔ دونوں طرف سے لگ بھگ ڈھائی لاکھ فوجی کام آئے۔مگر مصطفی کمال کو معروف عرب شاعر خالد شوقی کی طرف سے خالد بن ولیدِ ثانی کا خطاب مل گیا۔
ادھر جرمنی نے یورپ کے وسطی اور مشرقی محاذ پر اتحادیوں کے جو سپاہی جنگی قیدی بنائے ان میں سے روس کی طرف سے لڑنے والے تاتاری مسلمانوں کو دیگر مسلمان جنگی قیدیوں سے الگ رکھا گیا۔شمالی افریقہ اور ہندوستان کے تین سے چار ہزار قیدی برلن کے نزدیک ہوفمین کیمپ پہنچائے گئے۔
شمالی افریقہ اور ہندوستان کے مسلمان قیدیوں کو باقیوں سے الگ رکھنے کی حکمتِ عملی مشرقِ وسطی میں ایک عرصے تک خدمات انجام دینے والے جرمن قانون دان اور ماہرِسفارت میکسویل اوپن ہائم کا آئیڈیا تھا۔( ان صاحب کا ذکر آگے بھی آئے گا)۔ حکمت یہ تھی کہ سرکردہ ترک اور عرب مذہبی رہنما کیمپ کا دورہ کریں اور اپنے ہم مذہب قیدیوں کو سمجھائیں کہ ترکوں اور ان کے اتحادیوں سے نبرد آزما ’’ مسلمان دشمن قوتوں’’ کی حمایت میں لڑنا کتنا بڑا گناہ ہے۔بعد ازاں کئی قیدی جرمنوں کی طرف سے اپنے سابق آقاؤں کے خلاف لڑے بھی۔
ہوفمین کیمپ میں ہی کیسر ولیلہم نے جیبِ خاص سے ایک چوبی مسجد بنوائی جس میں پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش تھی۔جنگ کے بعد ہوفمین کیمپ ختم ہوگیا مگر مسجد کو برلن میں رہنے والے مسلمانوں نے آباد رکھا۔ پھربرلن شہر میں ایک پختہ مسجد بن گئی اور ہوفمین کیمپ والی جرمنی کی اولین مسجد رفتہ رفتہ منہدم ہوگئی۔سوال یہ ہے کہ برطانیہ ، فرانس اور روس کی طرح جرمنی بھی غیر مسلمان تھا۔تو پھر ایسا کیوں تھا کہ جرمنی کو تو عثمانی سلطان قابلِ اعتماد برادر سمجھتے رہے اور باقی یورپی طاقتوں کو کٹر دشمن ؟ اس پالیسی کے کیا کیا فائدے اور نقصانات ہوئے اور اس پالیسی سے مسلمان دنیا کو کیا ملا اور کیا چھنا؟ ( داستان جاری ہے)۔
بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

Sunday, 14 June 2015

فلسطین: غزہ جنگ سے متعلق اسرائیلی رپورٹ مسترد

0 comments
غزہ میں 16 جولائی 2014ء کو اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے چار بچوں کے عزیز واقارب نوحہ کناں ہیں۔ فائل تصویر

شہریوں اور شہری اہداف کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا تھا:اسرائیلی دعویٰ

رام اللہ ۔ ایجنسیاں
فلسطینی حکومت نے غزہ میں گذشتہ سال موسم گرما میں صہیونی فوج کی مسلط کردہ جنگ سے متعلق اسرائیل کی سرکاری تحقیقاتی رپورٹ مسترد کردی ہے۔اس میں اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی شہریوں اور شہری اہداف کو جان بوجھ کر حملوں میں نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔
مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی حکومت کے ترجمان ایہاب بسیسو نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اسرائیل کا شہریوں کو ہدف بنانے کی حقیقت سے انکار کا فیصلہ دراصل اس نے غزہ کی پٹی میں جو کچھ کیا ہے،اسی کی توسیع ہے''۔
انھوں نے اسرائیلی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''فلسطینی صرف کسی بین الاقوامی تحقیقات کے حاصلات ہی کو تسلیم کریں گے اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل 29 جون کو ایسی ہی اپنی تحقیقاتی رپورٹ شائع کررہی ہے''۔
اسرائیل کی ایک بین الوزارتی کمیٹی کی تیار کردہ رپورٹ اتوار کو جاری کی گئی ہے اور اس میں اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ کو قانونی اور جائز قرار دیا گیا ہے۔اس میں اس بات پر اصرار کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جان بوجھ کر شہریوں یا شہری اہداف کو نشانہ نہیں بنایا تھا۔فلسطینیوں نے اس رپورٹ کے ان حاصلات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ اور انصاف نے مشترکہ طور پر غزہ جنگ سے متعلق یہ رپورٹ تیار کی ہے اور اس میں فوج اور قومی سلامتی کونسل کا نقطہ نظر بھی شامل ہے۔اس کو اقوام متحدہ کی غزہ جنگ کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ کے منظرعام پر آنے سے صرف دو ہفتے قبل جاری کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کردہ پچاس روزہ جنگ کے دوران دو ہزار دو سو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے تھے اور ان میں زیادہ تر عام شہری تھے۔فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں یا ان کے ساتھ جھڑپوں میں تہتر اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔ان میں سڑسٹھ فوجی اور چھے عام شہری تھے۔
اسرائیلی رپورٹ دو سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہے۔اس میں مصنفین نے جنگ کا سبب بننے والے حالات بیان کیے ہیں اور فوج کی جانب سے شہریوں کو نقصان پہنچنے سے بچانے کے لیے کوششوں پر روشنی ڈالی ہے۔اس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ''دنیا کو جہاں یہ نظر آرہا ہے کہ غزہ میں شہری اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا تو دراصل وہ فوجی اہداف تھے اور ان پر درست طور پر حملے کیے گئے تھے''۔

ٹیگز

#غزہ_کی_پٹی, #اسرائیل, #صہیونی_فوج, #رام_اللہ, #فلسطینی_حکومت

عدن میں عوامی مزاحمت کاروں کی فوجی کارروائی

0 comments

کارروائی کا مقصد شہر سے باغی جنگجووں کا محاصرہ ختم کرانا ہے



کارروائی کا مقصد شہر سے باغی جنگجووں کا محاصرہ ختم کرانا ہے


العربیہ 
یمن میں باغیوں کے خلاف سرگرم عوامی مزاحمتی کاروں نے عدن شہر کو حوثی اور منحرف صدر علی عبداللہ صالح کے قائم حصارے سے آزاد کرانے کے لئے منفرد فوجی کارروائی شروع کی ہے۔
ادھر مزاحمت کاروں نے صنعاء، ایب اور الضالع میں اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
دوسری جانب اتحادی لڑاکا طیاروں نے صنعاء سمیت یمن کے مختلف علاقوں میں باغیوں کے زیر استعمال گولا بارود کے ڈپوؤں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ نے جنیوا میں یمن مذاکرات کی تصدیق کردی

0 comments
یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے بیٹے احمد علی صالح کے مسلح حامی ۔


جنیوا۔ العربیہ ایجنسیاں
اقوام متحدہ نے سوموار 15 جون سے سوئس شہر جنیوا میں یمن کے متحارب گروپوں کے درمیان امن مذاکرات کے آغاز کی تصدیق کردی ہے۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کے ترجمان احمد فوزی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم توقع کرتے ہیں کہ ہم ''جنیوا مشاورت'' کے لیے کل یہاں ہوں گے''۔قبل ازیں یمنی فریق اس خدشے کا اظہار کررہے تھے کہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں یہ مذاکرات ملتوی ہوسکتے ہیں۔
یمن کی سعودی دارالحکومت الریاض میں جلاوطن حکومت کے ایک ترجمان نے بھی ہفتے کے روز العربیہ نیوز چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس اندیشے کا اظہار کیا تھا کہ یہ مذاکرات ملتوی ہوسکتے ہیں۔راجح بادی نے یمنی دارالحکومت صنعا سے اقوام متحدہ کے پینل کے جنیوا کے لیے روانہ ہونے کے بعد کہا تھا کہ اس میں حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے نمائندے شامل نہیں تھے۔
انھوں نے کہا کہ ''حوثی باغی اور علی صالح کے مندوبین اب پیچھے ہٹ رہے ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنیوا مذکرات میں شرکت کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں''۔
ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ حوثیوں اور علی صالح کے نمائندوں میں امن مذاکرات کے ایجنڈے کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے حوثی وفد سوئس شہر جانے کے لیے طیارے میں سوار نہیں ہوا ہے۔ درایں اثناء العربیہ نیوز چینل نے یمن کی جلاوطن حکومت کے نمائندوں اور مختلف دھڑوں کے وفود کی مذاکرات کے لیے جنیوا آمد کی تصدیق کی ہے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد نے قبل ازیں ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اتوار کو جنیوا میں تنازعے کے متحارب فریقوں سے الگ الگ بات چیت کریں گے تاکہ انھیں ایک ہی میز پر اکٹھے بیٹھنے پر آمادہ کیا جاسکے۔
اسماعیل ولد شیخ احمد گذشتہ چند ہفتوں سے یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کے لیے کوشاں تھے اور انھوں نے صنعا میں حوثیوں اور الریاض میں یمن کے جلا وطن صدر عبد ربہ منصور ہادی کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔اس کے علاوہ انھوں نے مذاکرات کے لیے حمایت حاصل کرنے کی غرض سے خلیجی عرب ممالک کے دارالحکومتوں کے دورے بھی کیے ہیں۔
واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کا رکن اور یمن کا پڑوسی اومان ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں پر اقوام متحدہ کی ثالثی میں امن مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔جی سی سی کے چھے رکن ممالک میں سے اومان واحد ملک ہے جو حوثیوں کے خلاف یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں فضائی مہم میں شریک نہیں ہے اور اس نے حوثی مخالف عرب اتحاد کے قیام کے وقت غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔