![]() |
| ترکی میں انتخابات کے دوران سکیورٹی کافی سخت رہی |
ترکی میں ہونے والے انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق 40 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد حکمران جماعت اے کے پارٹی کو 53 فیصد ووٹ ملے ہیں۔
ترکی کے باشندوں نے گذشتہ پانچ مہینے میں دوسری بار پارلیماني انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے تھے۔
جون میں ہونے والے انتخابات میں صدر رجب طیب اردوگان کی اے کے پارٹی مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔
اس کے بعد سے اتحاد کی حکومت قائم کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔
ان انتخابات میں کرد جنگجوؤں کے ساتھ تصادم اور تشدد کی لہر کے علاوہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے مبینہ بم حملوں کے پیش نظر سکیورٹی اہم مسئلہ ہے۔
![]() |
| جون میں ہونے والے انتخابات میں صدر رجب طیب اردگان کی اے کے پارٹی مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی |
رجب طیب اردوگان نے اپنی پارٹی کے حکومت آنے کے بدلے ملک کو استحکام کا وعدہ کیا ہے۔
سنیچر کو استنبول کی ایک مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد انھوں نے کہا ’یہ انتخاب ملک میں استحکام اور اعتماد کے لیے ہو رہا ہے۔‘
رجب طیب اردوگان نے انتخابات کے نتائج کا احترام کرنے کا عہد کیا ہے تاہم ان کے ناقدین نے واضح اکثریت حاصل ہونے کی صورت میں ان کے ’مطلق العنان ہونے کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔‘
اگر اے کے پارٹی ان انتخابات میں بھی تنہا اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اسے ملک کی اہم سیکولرسٹ پارٹی سی ایچ پی یا نیشنلسٹ پارٹی ایم ایچ پی کے ساتھ بات چیت کی میز پر آنا پڑے گا۔












0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔